43

کیا ڈگری یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی کا ماہر نوجوان ایک اچھّا انسان اور ذمّہ دار شہری بھی ہے؟ – Urdu Blogs

آج معمولی پڑھا لکھا اور اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ مشینوں کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اب محض تفریح اور معلومات کے حصول کا نہیں بلکہ روزگار اور مالی ضروریات پوری کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں، ان سے واقف ہونا اور ان کا استعمال سیکھنا ضروری ہے، لیکن دوسری طرف نوجوانوں کی اکثریت کو شاید اس بات احساس ہی نہیں کہ تربیت اور کردار سازی وہ عمل ہے جسے تعلیم اور ڈگری کے حصول کے سلسلے سے الگ کردیا جائے تو ان کی زندگی صرف اسمارٹ مشینوں کے ایک غلام جیسی ہوگی اور وہ اچھے بُرے میں تمیز کرنے سے محروم ہوجائیں گے۔

بدقسمتی سے ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جو ہمارے مجموعی کردار اور اخلاقی قدروں کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ باعثِ شرم ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ مجمع نے جو سلوک کیا، اس کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد ہم ایک بار پھر انہی روایتی مباحث میں گم ہوگئے اور یہ ثابت کرنے پر زور لگا دیا کہ قصور کس کا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ قصور وار وہ سب لوگ ہیں جو قوم کے معماروں کو ڈگریاں حاصل کرتا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتا دیکھ کر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لڑکے لڑکیاں تیزی سے نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہورہے ہیں اور چیلنجز سے نمٹنا سیکھ رہے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں تربیت اور راہ نمائی کی بھی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی کی اہمیت تو ہمیشہ رہی ہے، لیکن موجودہ دور میں اس کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کوتاہی، غفلت، چشم پوشی اور اس عمل کو نظر انداز کرنا گھروں سے لے کر سماج تک بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک وقت تھا جب گھروں میں‌ والدین، درس گاہوں میں اساتذہ، محلّوں میں بزرگوں اور دوسرے بڑے نوجوانوں کی کسی بھی حوالے سے راہ نمائی کرتے تھے اور بالخصوص گھروں اور اسکولوں میں نصاب سے ہٹ کر بھی بچوں کو سبق آموز واقعات، کہانیاں سنائی جاتی تھیں اور نصیحت و ہدایت کو اہم خیال کیا جاتا تھا، لیکن اب اس کا فقدان ہے۔ دوسری جانب والدین اور بزرگوں کو شکایت ہے کہ آج کا نوجوان موبائل فون کی اسکرین میں گم ہے اور ان کی بات نہیں سنتا۔

اس حوالے سے دانش وروں، ماہرینِ‌ تعلیم اور سینئرز اساتذہ کو کوئی راستہ تلاش کرنا ہو گا اور باقاعدہ حکمتِ عملی کے تحت بچّوں کی تربیت اور نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے کام کرنا ہو گا۔ ان میں خواتین کی عزّت اور احترام کو مقدم جاننے کا احساس پیدا کرنا ہو گا اور اس سوچ اور فکر کو تقویت دینے کی کوشش کرنا ہوگی جو عورتوں کے وقار اور آبرو کی ضامن ثابت ہو۔

یہ حقیقت ہے کہ سرکاری اسکولوں کی حالت ہم سدھار نہیں سکے، غریب کے لیے بچّوں کو تعلیم دلانا ایک خواب بنتا جارہا ہے جس کے باعث خواندگی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا اور دوسری طرف ہم اخلاقی طور پر گراوٹ کا شکار ہورہے ہیں اور نوجوانوں میں تربیتی عمل کا فقدان ہے۔ اس کے سبب معاشرے کی اخلاقی بنیادیں‌ کم زور پڑ رہی ہیں اور ہم اس بات کو اہمیت نہیں دے رہے کہ ایک اچھا انسان کیا ہوتا ہے اور کیسے معاشرے کا مفید شہری بنتا ہے۔

نوجوانوں کو جہاں تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے لیے سوشل میڈیا اور اس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وہیں خاص ماحول اور درس گاہوں میں اس بات کا اہتمام کرنا ہو گاکہ آج کا نوجوان اچھے اور بُرے میں تمیز کرنا سیکھے اور باہر نکلے تو اپنے ہر عمل سے خود کو اچھا اور مہذب شہری ثابت کرسکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی باصلاحیت اور محنتی ہیں‌ اور ان میں‌ عملی میدان میں کچھ کر دکھانے کی خواہش اور جذبہ بہت زیادہ ہے، لیکن بڑوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عمر کے مختلف مدارج میں ان کی تربیت اور راہ نمائی ضروری ہے جس کے ساتھ وہ زیادہ ذمہ دار اور اپنے اور اپنے سماج کے لیے مفید بن سکتے ہیں۔

یہی وقت ہے کہ حکومت اور اداروں کو معاشرے کے باشعور طبقات کے ساتھ مل کر نوجوان طبقے کا ہاتھ تھامنا ہو گا اور ان کی درست سمت میں راہ نمائی کا فریضہ انجام دینا ہو گا۔ خود نوجوانو‌ں کو بھی چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی تعلیمات اور ہدایات پر غور کریں، اور سیرت و کردار پر مبنی مواد خواہ وہ کتاب کی صورت میں دست یاب ہو یا ڈیجیٹل شکل میں میّسر ہو اسے پڑھیں، سنیں اور اس پر عمل کریں۔

Print Friendly, PDF & Email





Source Ary News Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں