4

آئرش زبان و ادب اور ثقافت کا علم بردار ناول نگار –

لائم اوفلاہرٹی اشتراکی نظریات کا حامل اور ایک ایسا ناول نگار تھا جسے اپنی مادری زبان سے بے حد لگاؤ تھا۔ اس نے انگریزی زبان کے ساتھ اپنی قومی زبان میں بھی ادب تخلیق کیا۔ اوفلاہرٹی ایک ناول نگار اور ڈرامہ نویس کے طور پر اپنے ہم عصروں میں ممتاز ہوا۔

بیسویں صدی کے اس نام ور ادیب نے 28 اگست 1896ء کو آئرلینڈ میں آنکھ کھولی اور 1984ء میں آج ہی کے دن دنیا سے رخصت ہوگیا۔

آئرلینڈ کے اس ادیب کا بچپن غربت اور معاشی بدحالی دیکھتے ہوئے گزرا۔ اسے بچپن ہی سے اپنی مادری زبان سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد اس دور کے رواج کے مطابق مذہبی تعلیم حاصل کی۔ وہ شروع ہی سے اپنی زبان سے بہت لگاؤ رکھتا تھا اور یہ خواہش رکھتا تھا کہ اسے دنیا بھر میں پھیلا دے۔ بعد کے برسوں میں اس نے اپنی مادری زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی کوشش کی۔ ادھر والدین سمجھتے تھے کہ وہ مذہبی تعلیم مکمل کرچکا ہے اور اب پادری بن جائے گا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 1917ء میں اسے آئرش گارڈز میں بھرتی ہونا پڑا جس کے بعد اسے محاذِ جنگ پر بھیج دیا گیا۔

یہ پہلی جنگِ عظیم کا زمانہ تھا اور نوجوان لائم اوفلاہرٹی کے لیے خاصا پُرصعوبت اور مشکل ثابت ہوا۔ اسے محاذِ جنگ پر لڑتے ہوئے زخمی ہونے کے بعد خاصا عرصہ زیرِ علاج رہنا پڑا۔ وہ نہ سخت دل تھا، نہ ہی لڑاکا۔ اس جیسے حسّاس طبع اور تخلیقی ذہن رکھنے والے نوجوان کے لیے جنگ ایک بھیانک خوب تھا۔ اس نے جنگ کے دوران تباہی اور ہلاکتیں دیکھی تھیں جس نے اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کیے۔

1933ء میں اسے دماغی دورہ پڑا اور اس کا ایک سبب پہلی جنگِ عظیم کی تلخیاں بتائی جاتی ہیں۔ اوفلاہرٹی نے جنگ کے بعد اپنے وطن آئرلینڈ کو خیر باد کہہ کر امریکا ہجرت کی اور وہاں اسے مختصر عرصے کے لیے ہالی وڈ میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ ہجرت اس کی زندگی میں ایک خوش گوار تبدیلی کا ذریعہ بنی اور امریکا ہی میں اس کی ادبی زندگی کا صحیح معنوں میں آغاز ہوا۔ انگریزی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ وہ اپنی مادری زبان میں بھی کہانیاں تخلیق کرتا رہا۔

1923 میں جب وہ 27 سال تھا تو اس کی پہلی شارٹ اسٹوری اور ایک ناول شایع ہوا۔ اس کے بعد اس کے متعدد ناول شایع ہوئے اور 1950ء میں آخری کہانی منظرِ عام پر آئی۔ وہ شاعری بھی کرتا تھا اور مرتے دم تک آئرش تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب کا علم بردار رہا۔

Comments





Source Ary News Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں