6

بوسٹر ڈوز کے لیے کین سائنو بہتر یا سائنوویک؟ چینی تحقیق میں اہم انکشاف –

بیجنگ: کرونا وائرس کے خلاف بوسٹر ڈوز کے لیے کین سائنو یا سائنوویک ویکسین بہتر ہے؟ اس سلسلے میں چینی تحقیق میں اہم انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی مختلف ویکسینز کو ملانے کے حوالے سے کیے گئے ایک چینی طبی مطالعے میں معلوم ہوا ہے کہ سائنوویک ویکسین کی ایک یا دو ڈوزز کے بعد بوسٹر ڈوز کے لیے کین سائنو ویکسین کے استعمال سے کہیں زیادہ طاقت ور اینٹی باڈی ردِ عمل بنتا ہے، بہ نسبت سائنوویک کی بوسٹر ڈوز۔

یہ تحقیق اس چینی فیصلے کے بعد آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چین میں بوسٹر ڈوز مخصوص گروپس کے شہریوں کو لگائی جائے گی، کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ویکسین کے فراہم کردہ تحفظ میں کمی آنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

پیر کو شائع شدہ ایک مقالے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تحقیق کے دوران جن شرکا کو سائنوویک کی دوسری ڈوز کے تین سے چھ ماہ کے بعد کین سائنو بائیو کی بوسٹر ڈوز لگائی گئی، ان میں دو ہفتے بعد اینٹی باڈی سطحات کو بے اثر کرنے میں اوسطاً 78 گنا اضافہ دیکھا گیا۔

سائنوویک کی تیسری ڈوز سے کیا تبدیلی آئے گی؟ چین میں سائنسی تحقیق

اس کے برعکس جن شرکا کو سائنوویک کی بوسٹر ڈوز لگائی گئی، ان میں صرف 15.2 گنا اضافہ دیکھا گیا۔ ایک یا دو ماہ کے وقفوں سے سائنوویک کی ایک ڈوز کے بعد کینسائنو بائیو کی بوسٹر ڈوز سے اینٹی باڈی سطحات کو بے اثر کرنے میں 25.7 گنا اضافہ، جب کہ سائنوویک کی دو ڈوز سے یہ اضافہ 6.2 گنا رہا۔

مقالے میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیق کے دوران زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے خلاف بوسٹر ڈوزز کے اثرات کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر میں سائنوویک ویکسین کی 1.4 ارب ڈوزز لگائی جا چکی ہیں، جن میں سے تین چوتھائی صرف چین میں لگائی گئی ہیں۔

Comments





Source Ary News Urdu

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں