5

گلابی نمک صحت کے لیے مفید یا مضر، اہم تحقیق سامنے آگئی

دیکھنے میں تو گلابی نمک واقعی خوبصورت لگتا ہے، لیکن آسٹریلیا میں ایک تحقیق میں پایا گیا ہے کہ صحت کے لیے مفید نمک سمجھے جانے کے باوجود گلابی نمک میں اہم غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے بلکہ کئی مضر دھاتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔

نیوٹریشن ریسرچ آسٹریلیا نامی آزاد تحقیقاتی ادارے نے آسٹریلیا میں دستیاب گلابی نمک کے اکتیس نمونوں پر تحقیق کی اور حیران کن حقائق بیان کئے کہ ان نمونوں میں غذائی اجزا کی سطح مختلف ہے، جس میں آئرن کی مقدار صفر سے سترہ ملی گرام فی سو گرام اور کیلشیئم کی سطح ترپن سے پانچ سو چوہتر ملی گرام فی سو گرام کے درمیان تھی۔

تحقیق کے مطابق گلابی نمک میں سوڈیم کے علاوہ سب سے زیادہ پائی جانے والی چیزیں میگنیشیئم، کیلشیئم اور پوٹاشیئم تھیں، لیکن ایک چائے کے چمچ گلابی نمک سے ان کی صرف ایک سے پانچ فیصد روزانہ کی ضرورت پوری ہوگی، جبکہ سوڈیم کی زیادہ سے زیادہ مقدار اسی میں پوری ہو جاتی ہے۔گلابی نمک کے وہ نمونے جن میں یہ غذائی اجزا زیادہ تھے، ان میں دھاتوں کی مقدار بھی زیادہ پائی گئی، سب سے خطرناک بات یہ کہ ان نمونوں میں المونیم 19 ملی گرام فی 100 گرام) اور سیسہ (0.26 ملی گرام فی 100 گرام) تک شامل تھا۔ ان دونوں دھاتوں کو لمبے عرصے تک یا زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ صحت کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔

نیوٹریشن ریسرچ آسٹریلیا کی سی ای او ڈاکٹر فلاویا فیٹ مُور کا کہنا ہے کہ حالانکہ گلابی نمک میں معدنیات عام نمک سے زیادہ ہیں، لیکن اگر نمک کے استعمال کو عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کے مطابق رکھا جائے تو ان کی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ یعنی ان غذائی اجزا کا کچھ فائدہ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو چھ چائے کے چمچ گلابی نمک استعمال کرنا پڑے گا، اتنے زیادہ نمک کے استعمال کے مسائل سبھی جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلابی نمک دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے لیکن صحت مند متبادل کے طور پر ہم دیگر جڑی بوٹیاں اور مصالحے استعمال ک سکتے ہیں جیسا کہ مرچیں، ہلدی، دار چینی، زعفران وغیرہ۔

Comments





Source Ary News Urdu

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں